MOJ E SUKHAN

جادۂ درد کے حالات مرے اپنے ہیں

جادۂ درد کے حالات مرے اپنے ہیں
راہ کے سارے طلسمات مرے اپنے ہیں

قفل گو ڈال گیا دست تشدد لب پر
ہم نوا میرے خیالات مرے اپنے ہیں

کیسے ہو رد بلا کیا ہو تباہی سے گریز
وہ جو ہیں باعث آفات مرے اپنے ہیں

دیر سے مجھ پہ جو ہیں سنگ زنی میں مصروف
دیکھتی ہوں تو سبھی ہات مرے اپنے ہیں

نہ ہوا مجھ کو میسر کبھی اپنا ہونا
کیجئے کیا کہ یہ حالات مرے اپنے ہیں

جب کبھی تیرے تعلق کا تحفظ پایا
زندگی کے وہی لمحات مرے اپنے ہیں

جن کی بنیاد ہوئی میرے لہو سے تعمیر
یہ گھروندے وہ محلات مرے اپنے ہیں

سبب گمرہی ثابت ہوا ضعف ادراک
وہ جو حائل ہیں حجابات مرے اپنے ہیں

میں عیاںؔ درد کے رشتے سے رہی عالمگیر
فکر کے سارے مقامات مرے اپنے ہیں

رشیدہ عیاں

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم