MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

میری محبوب تجھے میری محبت کی قسم

میری محبوب

میری محبوب تجھے میری محبت کی قسم
اپنی ہلکی سی شرافت کا اشارہ دے دے

جیب سے مارا ہوا نوٹ کرارا دے دے
اے مری جاں مرے الجھے ہوئے مقطع کی غزل

جسے دیکھا نہیں اس خواب کی الٹی تعبیر
تو مہرباں ہو تو کھل جائے مرے دل کا کنول

اپنی بے لوث محبت کی دکھا دے تاثیر
آ کے دھوبی ہے کھڑا اس کا ادھارا دے دے

جیب سے مارا ہوا نوٹ کرارا دے دے
کیا بھلا سکتی ہے تو پہلی ملاقات اپنی

میری سائیکل سے جو تو جان کے ٹکرائی تھی
ایک دن آڑ تھے کچھ بال ترے سر پہ مگر

تیری چوٹی مری مٹھی میں سمٹ آئی تھی
بال نقلی ہی سہی ان کا اتارا دے دے

جیب سے مارا ہوا نوٹ کرارا دے دے
یاد ہے تجھ کو مرے ہاتھ کی سونے کی گھڑی

تری خاطر ہی جسے چھاؤں میں رکھوایا ہے
سود کے پیسے جو مانگے ہیں چھڑانے کے لئے

ترچھی آنکھوں میں تری خون اتر آیا ہے
یہ تری ترچھی ادا بھی ہے گوارہ دے دے

جیب سے مارا ہوا نوٹ کرارا دے دے
ناک پھولی ہوئی دو نالی طفنچے کی طرح

تیرے ترشے ہوئے ابرو نے کیا دل گھائل
لے گئے چین مرا پچکے ہوئے گال ترے

دل کے درماں کے لئے آیا ہوں بن کر سائل
قلب مضطر کے لئے آلو بخارا دے دے

جیب سے مارا ہوا نوٹ کرارا دے دے
آرزو تھی مرے بچے تجھے امی کہتے

اسی حسرت میں گزاری ہے جوانی میں نے
شوق اولاد نے کیا دل پہ ستم توڑے ہیں

سادہ لفظوں میں سنائی ہے کہانی میں نے
اب بھی ہے وقت بڑھاپے کا سہارا دے دے

جیب سے مارا ہوا نوٹ کرارا دے دے
سارے کپڑے مرے اب ہو گئے ڈھیلے ڈھالے

نئے فیشن کا میں پتلون کہاں سے لاؤں
ؔخواہ مخواہ آؤں گا سسرال پہن کر لنگی

گر تری ضد ہے کہ میں پینٹ پہن کر آؤں
لے کے پتلون مری اپنا غرارہ دے دے

جیب سے مارا ہوا نوٹ کرارا دے دے

غوث خواہ مخواہ حیدرآبادی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم