MOJ E SUKHAN

جس رہگزر سے دن میں گزرتا ہے آدمی

جس رہگزر سے دن میں گزرتا ہے آدمی
راتوں کو اس میں خوف سے مرتا ہے آدمی

اس شہر نامراد میں پھیلی یہ کیا وبا
اب آدمی کو دیکھ کے ڈرتا ہے آدمی

خالد علیگ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم