MOJ E SUKHAN

آئنہ آئنہ کیوں کر دیکھے

غزل

آئنہ آئنہ کیوں کر دیکھے
اپنے ہی داغ نظر بھر دیکھے

تم نے جلوے کو بھی چھونا چاہا
ہم نے خوشبو میں بھی پیکر دیکھے

آپ انساں ہوا صورت کا اسیر
شیشہ ٹوٹے تو سکندر دیکھے

ہم نے آواز لگائی سر طور
روپ جب شوق سے کمتر دیکھے

جلوۂ طور بجا تھا لیکن
آنکھ مشتاق تھی پیکر دیکھے

درد کو خوف بکھر جانے کا
آنکھ کو شوق کہ بڑھ کر دیکھے

مستقل سب کا پتہ ایک ہی تھا
کس نے فغفور و سکندر دیکھے

احسان اکبر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم