MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ہے دوست کوئی یا مرا قاتل کوئی تو ہے

غزل

ہے دوست کوئی یا مرا قاتل کوئی تو ہے
خوش ہوں کہ میرا مد مقابل کوئی تو ہے

جوں ہی میں ڈوبی بھیڑ کنارے پہ لگ گئی
اس لاش کے لیے چلو ساحل کوئی تو ہے

در کھل گیا قفس کا پہ صیاد کیا کریں
پاؤں میں اب بھی طوق سلاسل کوئی تو ہے

تیرے شہر سے میرے مسافر نہیں گئے
اب پیار یا رسن ہو حمائل کوئی تو ہے

قدغن ہمارے نطق پہ ابلاغ پر لگی
اس شہر میں ہمارا بھی قائل کوئی تو ہے

عابدہ کرامت

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم