MOJ E SUKHAN

خود محبت درد ہے اور درد کا درماں بھی ہے

غزل

خود محبت درد ہے اور درد کا درماں بھی ہے
ہے یہ وہ مشکل کہ مشکل بھی ہے اور آساں بھی ہے

عاشق ابروئے جاناں عاشق مژگاں بھی ہے
دل میں شوق تیغ ہے ذوق لب پیکاں بھی ہے

میرے گھر آئیں گے وہ لایا ہے مژدہ نامہ بر
یہ پیام زیست بھی ہے موت کا ساماں بھی ہے

سچ بتا پروانہ کس کی آتش الفت ہے تیز
کون سوزندہ بھی ہے اور کون خود سوزاں بھی ہے

ابتدا موہوم اس کی انتہا معدوم ہے
یہ کتاب عمر کا مضموں بھی ہے عنواں بھی ہے

کیا بتائیں تم کو ہم نرخ متاع زندگی
یہ کبھی بے حد گراں ہے اور کبھی ارزاں بھی ہے

خوگر جور مسلسل ہو گئے قلب و جگر
مجھ پر ان کا بھی کرم ہے غیر کا احساں بھی ہے

چشم جاناں جان لیوا بھی ہے اور جاں بخش بھی
موت کا باعث بھی ہے اور چشمۂ حیواں بھی ہے

قطرۂ خوں جو طراز نوک مژگاں تھا کبھی
اب وہی رنگین گوہر زینت داماں بھی ہے

رتبۂ عالی ہمارے داغ دل کا دیکھیے
روکش خورشید بھی رشک مہ تاباں بھی ہے

کھینچتا ہے کیوں مرے پہلو سے تیر دل نواز
دل کے بہلانے کا ہمدم اور کچھ ساماں بھی ہے

یہ کشش کس کی ہے کس کا لطف ہے کس کا کرم
آج محفل میں کسی کی بیدلؔ خوش خواں بھی ہے

بیدل عظیم آبادی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم