MOJ E SUKHAN

دلِ خوش فہم اعتبار نہ کر

دلِ خوش فہم اعتبار نہ کر
اب کسی کا بھی انتظار نہ کر

اس جہانِ طٙرٙب میں ہو کر گُم
دوریاں رب سے اختیار نہ کر

اپنے ایمان کے تحفظ میں
خود کو غفلت سے ہمکنار نہ کر

پُر فتن دور سے ہو رب کی پناہ
دل گناہوں سے داغدار نہ کر

آخرت کا خیال مُستحضر
گر ہے تو خود کو زیربار نہ کر

آ نہ جائے قضا نزی پل میں
زندگانی سے دیکھ پیار نہ کر

نازیہ نزی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم