غزل
دیدہِ وقت نے نادیدہ مناظر دیکھے
تب کہیں جاکے پسِ پردہ عناصر دیکھے
وہ فضا آگ کو گلزار بنا دیتی ہے
خیمہِ حرف میں جو دیدہِ شاعر دیکھے
جو زمانے کسی شاعر نے نہ دیکھے اب تک
میں نے اے جانِ غزل تیری ہی خاطر دیکھے
میں نے اک ایسے سفر میں جو ہوا دھوپ میں طے
سائباں دفن تھے جن میں وہ مقابر دیکھے
میں اسی خاص قبیلے کا ہی نابینا ہوں
جس نے شعلوں کو ہوا دینے کے ماہر دیکھے
جب پلٹ کر ورقِ دیدہِ حیرت دیکھا
آئینے عکس کی منزل کے مسافر دیکھے
میں نے اک حلقہِ زنجیر میں کیا کیا دیکھا
دو قدم وقت مرے ساتھ چلے پھر دیکھے
تیری آنکھوں کو جو دیکھا تو مری آنکھوں نے
جو مرے خواب تھے وہ اول و آخر دیکھے
اور حیرت سے مجھے اہلِ نظر نے دیکھا
میں نے جب ذروں میں پوشیدہ جواہر دیکھے
اک عقیدت سے جنہیں چوم رہی ہیں راہیں
آج تک وقت نے کب ایسے قدم پھر دیکھے
خود کو اپنے ہی وطن میں جو مہاجر سمجھیں
ہم نے اپنے ہی وطن میں وہ مہاجر دیکھے
عباس حیدر زیدی