MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

تجھے اپنی فضاؤں پر پشیماں کون دیکھے گا

غزل

تجھے اپنی فضاؤں پر پشیماں کون دیکھے گا
ترا غم سہ کے بھی تجھ کو پریشاں کون دیکھے گا

نہ آئیں وہ نظر اندر تو باہر کی طرف دیکھوں
تصور ہے تو پھر تصویر جاناں کون دیکھے گا

کسی کے نور کی جب دیدہ و دل میں تجلی ہے
تو پھر بزم جہاں کے اب چراغاں کون دیکھے گا

سنے گا کون اس شور جہاں میں دھڑکنیں دل کی
مرا بھیگا ہوا اشکوں سے داماں کون دیکھے گا

جہاں صبح وطن جاتی ہے رنگ و نور برساتی
وہاں بے کیف سی شام غریباں کون دیکھے گا

ترے در پر جمی ہے ہر پریشاں حال کی نظریں
نہ تو دیکھے تو پھر حال پریشاں کون دیکھے گا

جہاں نے صرف یہ دیکھا کہ ساحل پر سلامت ہوں
اٹھا ہے جو مرے سینے میں طوفاں کون دیکھے گا

حبیبؔ آنکھوں کو اپنی بند کر کے ہی چلیں ورنہ
سر بازار بکتا خون انساں کون دیکھے گا

جے کرشن چودھری حبیب

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم