MOJ E SUKHAN

سب عمر تو جاری نہیں رہتا ہے سفر بھی

غزل

سب عمر تو جاری نہیں رہتا ہے سفر بھی
آتا ہے کسی دن تو بشر لوٹ کے گھر بھی

منزل تو بڑی شے نہ ملی راہ گزر بھی
باندھا تھا بڑے شوق سے کیا رخت سفر بھی

اندر سے پھپھوندے ہوئے دیوار بھی در بھی
دیکھے ہیں بڑے لوگوں کے ہم نے بڑے گھر بھی

ہر سمت ہے ویرانی سی ویرانی کا عالم
اب گھر سا نظر آنے لگا ہے مرا گھر بھی

تنہائی پسند اتنا بھی مت بن یہ سمجھ لے
تنہائی میں ہے چین تو تنہائی میں ڈر بھی

پاگل ہے پتا پوچھ رہا ہے مرے گھر کا
کیا خانہ بدوشوں کا ہوا کرتا ہے گھر بھی

بسمل آغائی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم