MOJ E SUKHAN

تیرے جیسا کمال کر لیتا

غزل

تیرے جیسا کمال کر لیتا
میں بھی رنجش بحال کر لیتا

رسم الفت کا پاس ہے ورنہ
غیر خود پہ حلال کر لیتا

تو دھڑکتا اگر نہ سینے میں
سانس دھڑکن کو ٹال کر لیتا

اہل دنیا تو اہل دنیا ہیں
تو تو میرا خیال کر لیتا

پھول سے دوستی نبھانی تھی
کم سے کم آنکھ لال کر لیتا

جی اے نجم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم