MOJ E SUKHAN

صحرا سے تہی تھے رم دریا میں نہیں تھے

غزل

صحرا سے تہی تھے رم دریا میں نہیں تھے
ہم لوگ ترے کنج فسانہ میں نہیں تھے

دل خود سے جدا ہو کے انہیں ڈھونڈ رہا تھا
وہ دن کہ جو امکان زمانہ میں نہیں تھے

اک حیرت روشن سی رہی چشم کے ہم راہ
ہم گرچہ فسوں خانۂ فردا میں نہیں تھے

جب زخم دمک اٹھا تو وہ بھی پلٹ آئے
شامل جو کبھی رسم مداوا میں نہیں تھے

تھے تجھ سے ورا نقش کسی اور کے روشن
ہم خاک بسر تیری تمنا میں نہیں تھے

خوشبو کے تسلسل کی روایت کے ہیں ہم لوگ
کب پھول سے ہم باغ زمانہ میں نہیں تھے

میں ڈوبتی سانسوں کی طرح ٹوٹ رہی تھی
تم غم کی طرح چشم تماشا میں نہیں تھے

مے رنگ نہ تھے چشم بہاراں کے بلاوے
اب کے وہ نشے شوخیٔ مینا میں نہیں تھے

ہم چاہ طلب اور تھے تم جاہ طلب اور
یوسف سے چلن عشق زلیخا میں نہیں تھے

صائمہ زیدی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم