MOJ E SUKHAN

سفر بڑھا کے چبھن آبلوں میں چھوڑ گیا

سفر بڑھا کے چبھن آبلوں میں چھوڑ گیا
جدا ہوا تو کڑی الجھنوں میں چھوڑ گیا

گزر گیا کوئی آئینہ خانۂ دل سے
نگہ کا عکس مگر آئنوں میں چھوڑ گیا

جزا کی طرح سما کر مری نگاہوں میں
سزا کا رنگ مرے آنسوؤں میں چھوڑ گیا

وہ کون تھا جو ہماری سلگتی سانسوں کو
بنا کے برف پگھلتی رتوں میں چھوڑ گیا

وہ جاتے جاتے دعاؤں کے چاک پر رکھ کر
مرا نصیب نئی گردشوں میں چھوڑ گیا

عجیب شخص تھا اک عمر پاس رہ کر بھی
رسائیوں کی طلب بازوؤں میں چھوڑ گیا

سید انصر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم