MOJ E SUKHAN

طریق کوئی نہ آیا مجھے زمانے کا

طریق کوئی نہ آیا مجھے زمانے کا
کہ ایک سودا رہا جنس دل لٹانے کا

فریب خواب مرے راستے کو روک نہیں
کہ وقت شام ہے یہ غم کدے کو جانے کا

ترے وجود سے پہچان مجھ کو اپنی تھی
ترا یقین تھا مجھ کو یقیں زمانے کا

خراب عشق ہوں خود موت ہوں میں اپنے لیے
سکھا رہی ہوں ہنر خود کو دل جلانے کا

ہر ایک شاخ ستم سے میں پھول توڑتی ہوں
ہوا ہے شوق چمن زار غم بنانے کا

نشہ عجیب ہے اس جنگ بے ثمر کا مجھے
خمار خوب ہے خون خرد بہانے کا

شب وصال میں اک نقطۂ توقف ہوں
اور اک جنوں ہے اسے منزلوں کو پانے کا

دل تباہ کو بے دام بیچ دیتی ہوں
کہ کاروبار ہے یہ جنس غم کمانے کا

مجھے عزیز ہے بے احتیاطیٔ سادہ
نہ شوق ہے نہ ہنر اس کو آزمانے کا

قفس بدن کا مجھے کچھ مرا ثبوت نہیں
یہ طائر دل و جاں لوٹ کر نہ آنے کا

تنویر انجم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم