MOJ E SUKHAN

بعد از حرم کہیں بھی ٹھکانا تو ہے نہیں۔۔

بعد از حرم کہیں بھی ٹھکانا تو ہے نہیں۔۔
اٹھ کر کہیں مدینے سے جانا تو ہے نہیں۔۔

میرے نبی سنیں گے مری آہ و زاریاں۔۔
یہ حال۔دل ہے کوئ فسانا تو ہے نہیں۔۔

ان کو بنا کے بھیجا نبی آخر الزماں ۔۔
رنج و الم کو ان سے چھپانا تو ہے نہیں۔۔

جن سیڑھیوں پہ نعت ہوئ تھی مجھے عطا۔۔
جب تک ہے سانس ان کو بھلانا تو ہے نہیں۔۔

منزل ہے وہ ہی میری وہی آستاں بھی ہے۔۔
در سے کسی نے ان کے اٹھانا تو ہے نہیں۔۔

وہ عمر۔رائیگاں تھی جو عزلت میں کٹ گئ۔۔
اب عمر۔مختصر کو گنوانا تو ہے نہیں۔۔

لے آئ ہوں میں اشک۔ندامت فگار دل۔۔
آنچل میں اور کوئ خزانا تو ہے نہیں۔۔

کس جستجو سے پہنچی دیار۔حبیب تک۔
پیچھے قدم یہاں سے ہٹانا تو ہے نہیں ۔۔

حجاب عباسی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم