MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

جو برف زار چیر دے ایسی کرن بھی لا

جو برف زار چیر دے ایسی کرن بھی لا
پتھر دلوں میں آج کوئی کوہ کن بھی لا

اس طرح سرسری مرا باب وفا نہ لکھ
وقت شمار زخم مرا خستہ تن بھی لا

منصف اگر بنا ہے تو سب کو گوارہ رکھ
انصاف ہے تو میرا پھٹا پیرہن بھی لا

جلنے لگے ہیں پیاس سے پھولوں کے خشک ہونٹ
ابر بہار کو ذرا سوئے چمن بھی لا

چپ چاپ خلوتوں میں پگھلنے سے فائدہ
کوئی چراغ ہے تو سر انجمن بھی لا

اتنا وہ شادماں مجھے اچھا نہیں لگا
اس گل کے دل میں داغ کی تھوڑی جلن بھی لا

زخم سفر کے درد مسلسل کا سحر توڑ
نکلا ہوا وطن سے غریب الوطن بھی لا

یہ چشم التفات ہی کافی نہیں مجھے
میرے لیے تو نرمیٔ کام و دہن بھی لا

شاہینؔ سے عزیز ہے اپنا لہو تو کیا
نعش شہید کے لیے خونیں کفن بھی لا

جاوید شاہین

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم