MOJ E SUKHAN

عجیب رت ہے درختوں کو بے زباں دیکھوں

غزل

عجیب رت ہے درختوں کو بے زباں دیکھوں
دیار شام میں آہوں کا میں دھواں دیکھوں

چہار سمت سے آئی تھی برف کی آندھی
کہیں نہ پھول نہ رنگوں کی تتلیاں دیکھوں

یقین ان کو دلاؤں چمکتے سورج کا
حصار شب میں جو سہمے ہوئے مکاں دیکھوں

زمیں کو تو نے ڈرایا سدا مصائب سے
کبھی تجھے بھی ہراساں اے آسماں دیکھوں

لبوں پہ جس کے مسلسل پکار پانی کی
اسی کی آنکھ سے دریا بھی اک رواں دیکھوں

لہو لہان تو کوئی نظر نہیں آتا
لہو میں ڈوبی مگر سب کی انگلیاں دیکھوں

ہمارے عہد کے لوگوں کو کیا ہوا فکریؔ
سبھوں میں بجھتی ہوئی آگ کا سماں دیکھوں

پرکاش فکری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم