سب دل کے روگ آنکھ کے پانی میں کھل گئے
اولیٰ کے زخم مصرعِ ثانی میں کھل گئے
سورج کو چھو کے بار ہا پلٹی شبِ وصال
قصے ہزار ایک کہانی میں کھل گئے
جتنے تھے راز ہجرتوں نے فاش کر دیے
جتنے بھرم تھے نقل مکانی میں کھل گئے
کوئی سمجھ سکا نہیں کوشش کے باوجود
وہ بھید جو سمے کی روانی میں کھل گئے
ٹوٹے ہیں ساحلوں پہ پہنچ کر ہمارے خواب
بحری جہاز جیسے گڈانی میں کھل گئے
تجھ سے نہیں ہے خوف اے پیرانہ سال دور
تیرے رموز ہم پہ جوانی میں کھل گئے
کچھ چپ رہے ہماری حمایت کے وقت پر
کچھ یار اپنی چرب زبانی میں کھل گئے
ایسے وہ زندگی کے لغت میں کھلے حسن
الفاظ جیسے اپنے معانی میں کھل گئے
احتشام حسن