MOJ E SUKHAN

کبھی پیارا کوئی منظر لگے گا

غزل

کبھی پیارا کوئی منظر لگے گا
بدلنے میں اسے دم بھر لگے گا

نہیں ہو تم تو گھر جنگل لگے ہے
جو تم ہو ساتھ جنگل گھر لگے گا

ابھی ہے رات باقی وحشتوں کی
ابھی جاؤگے گھر تو ڈر لگے گا

کبھی پتھر پڑیں گے سر کے اوپر
کبھی پتھر کے اوپر سر لگے گا

در و دیوار کے بدلیں گے چہرے
خود اپنا گھر پرایا گھر لگے گا

چلیں گے پاؤں اس کوچے کی جانب
مگر الزام سب دل پر لگے گا

ہم اپنے دل کی بابت کیا بتائیں
کبھی مسجد کبھی مندر لگے گا

اگر تم مارنے والوں میں ہوگے
تمہارا پھول بھی پتھر لگے گا

کہاں لے کر چلو گے سچ کا پرچم
مقابل جھوٹ کا لشکر لگے گا

ہلاکو آج کا بغداد دیکھے
تو اس کی روح کو بھی ڈر لگے گا

زمیں کو اور اونچا مت اٹھاؤ
زمیں کا آسماں سے سر لگے گا

جو اچھے کام ہوں گے ان سے ہوں گے
برا ہر کام اپنے سر لگے گا

سجاتے ہو بدن بے کار جاویدؔ
تماشا روح کے اندر لگے گا

عبد اللہ جاوید

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم