MOJ E SUKHAN

مرے وجود کو اس نے عجب کمال دیا

مرے وجود کو اس نے عجب کمال دیا
کہ مشت خاک تھا افلاک پر اچھال دیا

مکاں کو جھوٹے مکینوں سے پاک کرنا تھا
سو میں نے اس سے ہر امید کو نکال دیا

مری طلب میں تکلف بھی انکسار بھی تھا
وہ نکتہ سنج تھا سب میرے حسب حال دیا

بدل کے رکھ دیے ہجر و وصال کے مفہوم
مجھے تو اس نے بڑی کشمکش میں ڈال دیا

میں اس کی بندہ نوازی کے رمز جانتا ہوں
کہ رزق شوق دیا لقمۂ حلال دیا

مرے خدا نے عطا کی مجھے زباں اور پھر
زباں کو مرتبۂ جرأت سوال دیا

سرشار صدیقی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم