MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

اس کے حصار خواب کو مت کرب ذات کر

غزل

اس کے حصار خواب کو مت کرب ذات کر
اس خوشبوئے خیال کو تو کائنات کر

دل کب تلک جدائی کی شامیں منائے گا
میری طرف کبھی تو نسیم حیات کر

میں اک طویل راستے پر ہوں کھڑی ہوئی
یا حبس تیرگی لے یا ہاتھوں میں ہاتھ کر

دھیمے سروں میں چھیڑ کے پھر ساز زندگی
تو میرے لہجے میں بھی کبھی مجھ سے بات کر

وہ ہجرتیں ہوں، ہجر ہو یا قصۂ وصال
آ پھر سے میرے نام سبھی واقعات کر

پیروں سے اس کے نام کے رستے لپٹ گئے
اب تو یقیں کے شہر میں ناہیدؔ رات کر

ناہید ورک

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم