MOJ E SUKHAN

تمہیں پانے کی خاطر میں سمندر پار آئی تھی

غزل

تمہیں پانے کی خاطر میں سمندر پار آئی تھی
کہ جو کچھ پاس تھا میرے وہ سب کچھ وار آئی تھی

زمانہ بھی غضب کی چال میرے ساتھ چلتا تھا
عجب جیون کی بازی تھی میں خود کو ہار آئی تھی

وہاں پر کم سے کم تیری زیارت ہو ہی جاتی تھی
میں تیرا شہر یوں ہی چھوڑ کر بے کار آئی تھی

پڑے ہیں آبلے پاؤں میں رستے ہیں کٹھن کتنے
تو کیا اس دشت فرقت میں میں چننے خار آئی تھی

نہیں کوئی ضرورت اب مری نیندوں سے کہہ دینا
کسی کے خواب کی خاطر میں آنکھیں وار آئی تھی

چرا کر لے گیا مجھ کو یوں ہی وہ بے دھیانی میں
مجھے ملنے وہ آیا تھا میں جب اس بار آئی تھی

مجھے کب ہوش تھا دیکھوں اٹھائیں انگلیاں کس نے
میں تیری جستجو میں جب سر بازار آئی تھی

محبت سے کسی نے تھام کر گلدان میں رکھا
کنولؔ کو ساتھ لے کر پانیوں کی دھار آئی تھی

کنول ملک

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم