MOJ E SUKHAN

میرے لیے وجود کا دریا سراب تھا

میرے لیے وجود کا دریا سراب تھا
ناکامیوں کے باب میں میں کامیاب تھا

بخشے ہیں مجھ کو پھول محبت کی آگ نے
میرے لیے سکوں کا سبب اضطراب تھا

میں نے سفید لفظ لکھے اور سچ لکھے
میری صداقتوں کا بیاں بے خضاب تھا

عصیاں شمار تھے جو فرشتے وہ تھک گئے
اک فرد صد گناہ سے میں بے حساب تھا

کیا مجھ سے انتخاب کی کرتا ہے آرزو
میں تو نگاہ شعر کا خود انتخاب تھا

ہجر و وصال ختم ہوئے ٹھیک ہے یہ کھیل
تجھ کو بھی ناگوار مجھے بھی عذاب تھا

بے داغ کہہ رہا ہے جو اپنے جمال کو
کل شب مری بغل میں یہی آفتاب تھا

میری کتاب رسم جہاں ہے وگرنہ میں
وہ صاحب کتاب ہوں جو بے کتاب تھا

صہباؔ مرے وجود پہ ہر میکدے سے دور
چھایا تھا وہ سرور کہ پانی شراب تھا

صہبا اختر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم