MOJ E SUKHAN

تزئین بزم غم کے لیے کوئی شے تو ہو

تزئین بزم غم کے لیے کوئی شے تو ہو
روشن چراغ دل نہ سہی جام مے تو ہو

ہم تو رہین رشتۂ بے گانگی رہے
سارے جہاں سے تیری ملاقات ہے تو ہو

غم بھی مجھے قبول ہے لیکن بہ قدر شوق
دل کا نصیب درد سہی پے بہ پے تو ہو

فریاد ایک شور ہے آہنگ کے بغیر
نالہ متاع درد سہی کوئی لے تو ہو

یہ کیا کہ اہل شوق نہ اپنے نہ آپ کے
یا موت یا حیات کوئی بات طے تو ہو

ہے دور حسن سلسلۂ زیر و بم کی بات
پہلے گداز سینہ سزاوار نے تو ہو

ہر چند دو قدم ہی سہی منزل مراد
یہ مختصر سی راہ مگر ہوشؔ طے تو ہو

ہوش ترمزی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم