MOJ E SUKHAN

وہ بوڑھا بھی کتنا دلکش بوڑھا تھا

وہ بوڑھا بھی کتنا دلکش بوڑھا تھا
یادوں کی دہلیز پہ چپکا بیٹھا تھا

شور مچاتے آنسو ٹپ ٹپ گرتے تھے
ہونٹوں پر اک کہر زدہ سناٹا تھا

ایک طرف پھن کاڑھے بیٹھی تھیں راتیں
ایک طرف پرشور دنوں کا میلا تھا

ٹوٹے پھوٹے چند کھلونوں کے ہمراہ
اک گوشے میں اس کا بچپن رکھا تھا

ہر شوخی پر ہر معصوم شرارت پر
ماں کے پاکیزہ آنچل کا سایہ تھا

کتنے آنچل اس کے لئے لہرائے تھے
کتنے رخوں نے اس پہ کرم فرمایا تھا

کیسے کیسے دوست سجیلے بانکے تھے
کیا کیا ان کے ساتھ میں گھومنا پھرنا تھا

پھر ماں کے اصرار پہ اک دن رات ڈھلے
اس کے شبستاں میں کوئی در آیا تھا

اس کو بوڑھا ہوتے دیکھ کے بھاگ گیا
اس کے اندر چھپا ہوا جو لڑکا تھا

علامہ طالب جوہری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم