MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

جب اپنے غم کا فسانہ انہیں سناتے ہیں

غزل

جب اپنے غم کا فسانہ انہیں سناتے ہیں
زمانہ ہنستا ہے ہم پر وہ مسکراتے ہیں

مری نگاہ سے جب وہ نظر ملاتے ہیں
دل غریب کی دنیا اجاڑ جاتے ہیں

ہماری آنکھوں نے ہر انقلاب دیکھا ہے
زمانہ والے ہمیں کس لیے ڈراتے ہیں

یہ کیسا جشن مناتے ہیں گلستاں والے
گلوں کو توڑتے ہیں آشیاں جلاتے ہیں

زمانے والے سمجھتے ہیں ہم کو دیوانہ
تمہارے حسن کے جس وقت گیت گاتے ہیں

تری نگاہ میں ساقی یہ کیسا جادو ہے
کہ بے پیے ہی قدم ڈگمگائے جاتے ہیں

جو تیری بزم طرب میں کبھی گزارے تھے
وہ لمحے اب بھی ہمیں روز یاد آتے ہیں

ہمارے اشکوں کی تابش پہ ہے نظر شاید
جبھی تو شام سے تارے بھی جھلملاتے ہیں

وہ کیا بنائیں گے بگڑا نصیب اے کشفیؔ
جو میرے حال پریشاں پہ مسکراتے ہیں

کشفی لکھنوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم