غزل
مست آنکھوں کی قسم کھانے کا موسم آ گیا
جام کو شیشے سے ٹکرانے کا موسم آ گیا
عصمت توبہ کو ٹھکرانے کا موسم آ گیا
آگیا پی کر بہک جانے کا موسم آ گیا
پھر گھٹا چھائی بہک جانے کا موسم آ گیا
جام کا شیشے کا پیمانے کا موسم آ گیا
حشر کا پیغام لے کر اٹھ رہی ہے چشم دوست
دل کی ہر دھڑکن پہ اترانے کا موسم آ گیا
یہ فضا یہ چاندنی راتیں یہ دور جام و مئے
مستیوں میں غرق ہو جانے کا موسم آگیا
ہو رہی ہیں جمع اک مرکز پہ دل کی وحشتیں
ہم نشیں شاید بہار آنے کا موسم آگیا
مسکراتا ہے کوئی چھپ چھپ کے دل کی آڑ میں
حسرتوں کے رقص فرمانے کا موسم آگیا
رفتہ رفتہ واقعات درد یاد آنے لگے
چپکے چپکے اشک برسانے کا موسم آگیا
دل میں عیش مے کدہ انگڑائیاں لینے لگا
ہر غم دنیا کو ٹھکرانے کا موسم آگیا
بڑھ رہا ہے خود بخود اقبالؔ جوش بے خودی
عالم امکاں پہ چھا جانے کا موسم آگیا
اقبال صفی پوری