MOJ E SUKHAN

کبھی فراق کبھی لذت وصال میں رکھ

کبھی فراق کبھی لذت وصال میں رکھ
مجھ اعتدال سے عاری کو اعتدال میں رکھ

نچا رہا ہے مجھے انگلیوں پہ عشق ترا
تمام عمر اسی رقص بے مثال میں رکھ

دکھی ہو دل تو اترتی ہے شاعری مجھ پر
تجھے غزل کی قسم ہے مجھے ملال میں رکھ

تو چاہتا ہے اگر کار۔آفتاب کروں
مرا عروج مری ساعت زوال میں رکھ

ترے بغیر گزاری ہے زندگی میں نے
تو اس ستم کی تلافی بھی ماہ و سال میں رکھ

تو دل ہے اور دھڑکنا تری عبادت ہے
سو خود کو جسم سے باہر بھی تو دھمال میں رکھ

شکم سے ہو کے گزرتے ہیں قول و فعل مرے
مجھ ایسے شخص کو نان و نمک کے جال میں رکھ

مرے بدن کو بھلے اس سے آگ لگ جائے
چراغ حرف مگر میرے بال بال میں رکھ

میں اس عذاب کے نشے میں مبتلا ہوں کبیرؔ
پرائی آگ اٹھا کر مری سفال میں رکھ

کبیر اطہر

کبیر اطہر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم