MOJ E SUKHAN

یہ غلط ہے یہ سال ٹھیک نہیں

غزل

یہ غلط ہے یہ سال ٹھیک نہیں
ہر گھڑی کا ملال ٹھیک نہیں

زندگی اک خیال خانہ ہے
آپ کا یہ خیال ٹھیک نہیں

پھول کو دھول کی ضرورت ہے
اس قدر دیکھ بھال ٹھیک نہیں

گرنے والے نے سر اٹھا کے کہا
ان ستاروں کی چال ٹھیک نہیں

آئینہ ساز ٹھیک کہتا ہے
شیشہ گر کی مثال ٹھیک نہیں

ساتھ چلتے رہو مگر خاموش
اس سفر میں سوال ٹھیک نہیں

آپ کے ناخنوں سے یاد آیا
میرے زخموں کا حال ٹھیک نہیں

اتنی چھوٹی سی بات پر عمرانؔ
اتنا گہرا ملال ٹھیک نہیں

عمران شمشاد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم