MOJ E SUKHAN

کسی کے ہاتھ کہاں یہ خزانہ آتا ہے

غزل

کسی کے ہاتھ کہاں یہ خزانہ آتا ہے
مرے عزیز کو ہر اک بہانہ آتا ہے

ذرا سا مل کے دکھاؤ کہ ایسے ملتے ہیں
بہت پتا ہے تمہیں چھوڑ جانا آتا ہے

ستارے دیکھ کے جلتے ہیں آنکھیں ملتے ہیں
اک آدمی لئے شمع فسانہ آتا ہے

ابھی جزیرے پہ ہم تم نئے نئے تو ہیں دوست
ڈرو نہیں مجھے سب کچھ بنانا آتا ہے

یہاں چراغ سے آگے چراغ جلتا نہیں
فقط گھرانے کے پیچھے گھرانا آتا ہے

یہ بات چلتی ہے سینہ بہ سینہ چلتی ہے
وہ ساتھ آتا ہے شانہ بہ شانہ آتا ہے

گلاب سنیما سے پہلے چاند باغ کے بعد
اتر پڑوں گا جہاں کارخانہ آتا ہے

یہ کہہ کے اس نے سمسٹر بریک کر ڈالا
سنا تھا آپ کو لکھنا لکھانا آتا ہے

زمانے ہو گئے دریا تو کہہ گیا تھا مجھے
بس ایک موج کو کر کے روانہ آتا ہے

چھلک نہ جائے مرا رنج میری آنکھوں سے
تمہیں تو اپنی خوشی کو چھپانا آنا ہے

وہ روز بھر کے خلائی جہاز اڑاتے پھریں
ہمیں بھی رج کے تمسخر اڑانا آتا ہے

پچاس میل ہے خشکی سے بحریہ ٹاؤن
بس ایک گھنٹے میں اچھا زمانہ آتا ہے

بریک ڈانس سکھایا ہے ناؤ نے دل کو
ہوا کا گیت سمندر کو گانا آتا ہے

مجھے ڈیفینس کی لنگوا‌ فرانکا نئیں آتی
تمہیں تو صدر کا قومی ترانہ آتا ہے

مجھے تو خیر زمیں کی زباں نہیں آتی
تمہیں مریخ کا قومی ترانہ آتا ہے

ادریس بابر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم