MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

وابستہ ہو کے ایک ترے آستان سے ہم

وابستہ ہو کے ایک ترے آستان سے ہم
آزاد ہو گئے ہیں غمِ دو جہاں سے ہم

برسوں وہاں خزاں کا اثر تک نہ آ سکا
ہنس کر گزر گئے ہیں جنوں میں جہاں سے ہم

تقدیر کیا ہے اس کو سمجھنے سے فائدہ
آخر قفس میں آ ہی گئے آشیاں سے ہم

شاید جبیں سے مہر قیامت میں ہو طلوع
اک داغ لے چلے ہیں ترے آستاں سے ہم

سجدے نے فاصلے کو برابر تو کر لیا
کچھ دور رہ گئے تھے ترے آستاں سے ہم

ہم کو ملی ہے فطرتِ خود دار اے فدا
بچ کر گزر رہے ہیں ہر اک کارواں سے ہم

فدا خالدی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم