MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

تمہاری یاد کا ساون کہاں سے آتا ہے

غزل

تمہاری یاد کا ساون کہاں سے آتا ہے
یہ میری جان کا دشمن کہاں سے آتا ہے

شریک جام نہیں ہوں مگر یہ سوچتا ہوں
ترا بھرا ہوا برتن کہاں سے آتا ہے

یہ پائلیں تو مری طبع زاد ہیں لیکن
مرے کلام میں کنگن کہاں سے آتا ہے

فلک کو دیکھ رہا ہوں سوال کرتے ہوئے
ستارۂ رخ روشن کہاں سے آتا ہے

 

اکرام عارفی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم