MOJ E SUKHAN

کھلا ہوا ہے فلک پر گلاب سورج کا

کھلا ہوا ہے فلک پر گلاب سورج کا
زمین جھیلے گی لیکن عذاب سورج کا

شبیہہ اترے کسی ہاتھ پر تمازت کی
کہیں حوالہ تو ہو دستیاب سورج کا

مجھے خبر ہے کہ آنکھیں ہیں موم کی لیکن
یہ دل بضد ہے کہ دیکھوں میں خواب سورج کا

یہ لوگ جس کو سمندر کا نام دیتے ہیں
زمیں پہ پھیلا ہوا ہے زر آ ب سورج کا

بہت دنوں سے کرن تک نظر نہیں آئی
بہت دنوں سے مقفل ہے باب سورج کا

کوئی تو ہو جو رہِ عشق پر اسے لے آئے
کوئی تو اب کرے خانہ خراب سورج کا

تلاش میں تو شب وروز کس کی ہے انصر
کہ تجھ میں آئے نظر اضطراب سورج کا

انصر رشید انصر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم