MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

صحرا میں ہے قرار نہ صحن چمن میں ہے

غزل

صحرا میں ہے قرار نہ صحن چمن میں ہے
جب سے دل خراب تری انجمن میں ہے

یہ برہمی جو زلف شکن در شکن میں ہے
شاید کوئی کمی مرے دیوانہ پن میں ہے

جو کارواں بھی آیا یہیں کا وہ ہو رہا
کیا جانے کیا کشش مری خاک وطن میں ہے

رگ رگ میں جیسے برق تپاں دوڑنے لگی
کوئی کشش تو قصۂ دار و رسن میں ہے

وہ بزم ناز باعث آزار ہی سہی
دل کو مگر قرار اسی انجمن میں ہے

پھولوں کو ہو سکی نہ مہ و مہر کو نصیب
جلوؤں کی جو بہار ترے پیرہن میں ہے

یہ کون تشنہ کام گلستاں میں آ گیا
بوئے شراب برگ گل و یاسمن میں ہے

شوق ماہری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم