MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

سمندروں کے سفر پر ہیں رہنما بھی نہیں

غزل

سمندروں کے سفر پر ہیں رہنما بھی نہیں
ہم ایسے لوگوں کی کشتی کا ناخدا بھی نہیں

یقین دل کے لیے عالم گمانی میں
اسے پکار رہا ہوں تو سن رہا بھی نہیں

یہ کس امید پہ آنکھوں میں رقص باقی ہے
تو جا چکا ترے آنے کا آسرا بھی نہیں

الگ الگ سی ہے سمتوں کا اب سفر درپیش
تمہارا ہاتھ مرے ہاتھ سے جدا بھی نہیں

ہمیں سے رونق بازار عشق قائم تھی
ہمارے بعد تو شہروں میں کچھ بچا بھی نہیں

فضا میں حبس ہے جنگل اداس لگتا ہے
عجیب دکھ ہے پرندوں کا چہچہا بھی نہیں

زباں کی داد مگر تیرے لب تلک آؤں
میں ایک لفظ میں سمٹی ہوئی دعا بھی نہیں

تم ایک عمر کی کوشش میں رائیگاں گزرے
حریم دل میں چراغ وفا جلا بھی نہیں

میں اپنے قتل کا الزام کس کے سر رکھوں
یہاں تو میرے سوا کوئی دوسرا بھی نہیں

قمر عباس قمر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم