MOJ E SUKHAN

یادیں چلیں خیال چلا اشک تر چلے

یادیں چلیں خیال چلا اشک تر چلے
لے کر پیام شوق کئی نامہ بر چلے

دل کو سنبھالتے رہے ہر حادثے یہ ہم
اب کیا کریں کہ خود ترے گیسو بکھر چلے

ہر گام پر شکست نے یوں حوصلہ دیا
جس طرح ساتھ ساتھ کوئی ہم سفر چلے

شوق طلب نہ ہو کوئی بانگ جرس تو ہو
آخر کوئی چلے تو کس امید پر چلے

اب کیا کرو گے سیر سمن زار آرزو
رت جا چکی چڑھے ہوئے دریا اتر چلے

راہوں میں ہوشؔ سنگ برستے ہیں ہر طرف
لے کر یہ کاروان تمنا کدھر چلے

ہوش ترمزی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم