MOJ E SUKHAN

دل کو تازہ ملال کیسے ہو

غزل

دل کو تازہ ملال کیسے ہو
غم سے رشتہ بحال کیسے ہو

اس سے پہلے کہ وہ نہ پہچانے
کر دیا ہے سوال کیسے ہو

ہم سفر تو نہیں تو دنیا میں
گردش ماہ و سال کیسے ہو

یاد خود ہی بنی ہو نشتر جب
زخم کا اندمال کیسے ہو

آپ کا جب گلہ نہیں مٹتا
پھر تعلق بحال کیسے ہو

ہنس کے تم گفتگو نہیں کرتے
پھر سخن میں کمال کیسے ہو

میرؔ و غالبؔ ہیں پاسباں اس کے
پھر غزل کو زوال کیسے ہو

ذکیہ غزل

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم