MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ہر چند میرے حال سے وہ بے خبر نہیں

ہر چند میرے حال سے وہ بے خبر نہیں
لیکن وہ بے کلی جو ادھر ہے ادھر نہیں

آواز رفتگاں مجھے لاتی ہے اس طرف
یہ راستہ اگرچہ مری رہ گزر نہیں

چمکی تھی ایک برق سی پھولوں کے آس پاس
پھر کیا ہوا چمن میں مجھے کچھ خبر نہیں

کچھ اور ہو نہ ہو چلو اپنا ہی دل جلے
اتنا بھی اپنی آہ میں لیکن اثر نہیں

آتی نہیں ہے ان سے شناسائی کی مہک
یہ میرے اپنے شہر کے دیوار و در نہیں

باصرؔ جگا دیا ہے تمہیں کس نے آدھی رات
اس دشت میں تو نام و نشان سحر نہیں

باصر کاظمی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم