MOJ E SUKHAN

آؤ ہم تم عشق کے اظہار کی باتیں کریں

Aaoo Ham Tum Ishq ki btin rain

غزل

آؤ ہم تم عشق کے اظہار کی باتیں کریں
ڈال کر بانہوں میں باہیں پیار کی باتیں کریں

پھول کی باتیں کریں گلزار کی باتیں کریں
پیار کی باتیں کریں بس پیار کی باتیں کریں

بات ہم دونوں کو یہ تو سوچنی ہی چاہئے
پیار کے موسم میں کیوں تکرار کی باتیں کریں

اس سے اچھی بات کوئی اور ہو سکتی نہیں
یار کا افسانہ چھیڑیں یار کی باتیں کریں

کاش بچپن لوٹ آئے اور ہم سب بیٹھ کر
کچی مٹی کے در و دیوار کی باتیں کریں

شکریہ بازاریت کی روشنی کا شکریہ
گاؤں کی پگڈنڈیاں بازار کی باتیں کریں

کعبہ و کاشی کے قصے ہو چکے اب بس کرو
آؤ قیصرؔ نقش پائے یار کی باتیں کریں

قیصر صدیقی

Qaiser Siddiqui

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم