MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

زمیں سے تا بہ فلک ہے کہ لامکاں تک ہے

زمیں سے تا بہ فلک ہے کہ لامکاں تک ہے
غم حیات ترا سلسلہ کہاں تک ہے

فسانہ میرے جنوں کاوہاں وہاں تک ہے
تمھارا نقش کف پاء جہاں جہاں تک ہے

نفس کے تار جو ٹوٹیں تو ختم ہو شاید
وہ فاصلہ کہ قفس سے جو آشیاں تک ہے

نہ ہوگا اور کوئی سوز عشق کا طالب
یہ سلسلہ تو فقط مجھ سے ناتواں تک ہے

بتا سکیں گے یہ دیوانے ہوش میں آکر
رسائی فہم و خرد کی کہاں کہاں تک ہے

وہ شخص اپنے مقدر پہ کیوں نہ ہو نازاں
رسائی جسکی بھی خاور اس آستاں تک ہے

ندیم خاور

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم