MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

کوئی آرزو نہیں ہے کوئی مدعا نہیں ہے

غزل

کوئی آرزو نہیں ہے کوئی مدعا نہیں ہے
ترا غم رہے سلامت مرے دل میں کیا نہیں ہے

کہاں جام غم کی تلخی کہاں زندگی کا درماں
مجھے وہ دوا ملی ہے جو مری دوا نہیں ہے

تو بچائے لاکھ دامن مرا پھر بھی ہے یہ دعویٰ
ترے دل میں میں ہی میں ہوں کوئی دوسرا نہیں ہے

تمہیں کہہ دیا ستمگر یہ قصور تھا زباں کا
مجھے تم معاف کر دو مرا دل برا نہیں ہے

مجھے دوست کہنے والے ذرا دوستی نبھا دے
یہ مطالبہ ہے حق کا کوئی التجا نہیں ہے

یہ اداس اداس چہرے یہ حسیں حسیں تبسم
تری انجمن میں شاید کوئی آئنا نہیں ہے

مری آنکھ نے تجھے بھی بہ خدا شکیلؔ پایا
میں سمجھ رہا تھا مجھ سا کوئی دوسرا نہیں ہے

شکیل بدایونی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم