MOJ E SUKHAN

آیا ہی نہیں کوئی بوجھ اپنا اٹھانے کو

غزل

آیا ہی نہیں کوئی بوجھ اپنا اٹھانے کو
کب تک میں چھپا رکھتا اس خواب خزانے کو

دیکھا نہیں رخ کرتے جس طرف زمانے کو
جی چاہتا ہے اکثر اس سمت ہی جانے کو

یہ شغل زبانی بھی بے صرفہ نہیں آخر
سو بات بناتا ہوں اک بات بنانے کو

اس کنج طبیعت کی ممکن ہے ہوا بدلے
جھونکا کوئی آ جائے پتے ہی اڑانے کو

راضی نہ ہوا میں بھی مانوس مناظر پر
تیار نہ تھا وہ بھی کچھ اور دکھانے کو

جیسا کہ سمجھتے ہو ویسا تو نہیں کچھ بھی
یہ سارا تماشا ہے اک وہم مٹانے کو

احمد محفوظ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم