MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

پھول کھلتے ہیں تالاب میں تارا ہوتا

پھول کھلتے ہیں تالاب میں تارا ہوتا
کوئی منظر تو مری آنکھ میں پیارا ہوتا

ہم پلٹ آئے مسافت کو مکمل کر کے
اور بھی چلتے اگر ساتھ تمہارا ہوتا

ہم محبت کو سمندر کی طرح جانتے ہیں
کود ہی جاتے اگر کوئی کنارہ ہوتا

ایک ناکام محبت ہی ہمیں کافی ہے
ہم دوبارہ بھی اگر کرتے خسارہ ہوتا

کتنی لہریں ہمیں سینے سے لگانے آتیں
کوئی کنکر ہی اگر جھیل میں مارا ہوتا

رمزی آثم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم