MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

وہ بچپنا، وہ لڑکپن، شباب سب کے سب

وہ بچپنا، وہ لڑکپن، شباب سب کے سب
گئے وہ دن وہ بہاریں وہ خواب سب کے سب

حضور عالی وقار و جناب سب کے سب
فنا سبھی کا مقدر، حباب سب کے سب

جو تو گیا تو مرے خواب مجھ سے روٹھ گئے
تری تلاش میں شاید ہیں خواب سب کے سب

وہ جھانکیں اپنے گریباں میں ایک بار ضرور
پکارا کرتے ہیں جو احتساب سب کے سب

نہ فکر سمجھے نہ ہم فلسفہ محبت کا
اُٹھائے پھرتے ہیں سر پر کتاب سب کے سب

تمام عمر سہیں تلخیاں زمانے کی
بھلا دیئے ہیں مگر وہ حساب سب کے سب

جو نفرتوں کا عداوت کا درس دیتے ہیں
جلا کے راکھ بنادو نصاب سب کے سب

نہ جانے پھول میں کس کے تری مہک آئے
اٹھائے پھرتے ہیں یوں تو گلاب سب کے سب

جو ہاں کرے تو دل مضطرب کو آئے قرار
نفی میں آتے ہیں تیرے جواب سب کے سب

حجاب اوڑھنے والی پہ اعتراض ہے کیوں
یہاں تو اوڑھے ہوئے ہیں نقاب سب کے سب

مری بیاض میں لکھے ہونے مرے اشعار
ہیں والدین کو وہ انتساب سب کے سب

نئی رتوں میں نئے لوگ ان کے ساتھی ہیں
نئی رتوں میں نئے انتخاب سب کے سب

سمیٹ لو نا کسی چشم تر کے دو موتی
تلاش کرتے ہو کیوں زیر آب سب کے سب

ہیں فیض علم مری کامیابیاں خاور
اساتذہ نے پڑھائے ہیں باب سب کے سب

ندیم خاور

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم