MOJ E SUKHAN

اس بار ہوا کن کا اثر اور طرح کا

اس بار ہوا کن کا اثر اور طرح کا
اس بار ہے امکان بشر اور طرح کا

اس بار مدینے ہی میں در آیا تھا کوفہ
اس بار کیا ہم نے سفر اور طرح کا

اس بار نہ اسباب نہ چادر پہ نظر تھی
اس بار تھا لٹنے کا خطر اور طرح کا

اس بار کوئی عیب کوئی عیب نہیں تھا
اس بار کیا ہم نے ہنر اور طرح کا

اس بار کوئی خیر کا طالب ہی نہیں تھا
اس بار تھا اندیشۂ شر اور طرح کا

اس بار چلی باد سموم اور طرح کی
اس بار کھلا ہے گل تر اور طرح کا

اس بار تو جبریل معانی کو ملا اذن
اس بار جلا لفظ کا پر اور طرح کا

تسنیم عابدی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم