MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

وہی جو راہ کا پتھر تھا بے تراش بھی تھا

وہی جو راہ کا پتھر تھا بے تراش بھی تھا
وہ خستہ جاں ہی کبھی آئینہ قماش بھی تھا

لہو کے پھول رگ جاں میں جس سے کھلتے تھے
وہی تو شیشۂ دل تھا کہ پاش پاش بھی تھا

بکھر گئی ہیں جہاں ٹوٹ کر یہ چٹانیں
یہیں تو پھول کوئی صاحب فراش بھی تھا

اٹھائے پھرتا تھا جس کو صلیب کی صورت
وہی وجود تو خود اس کی زندہ لاش بھی تھا

پلک جھپکنے میں کچھ خواب ٹوٹ جاتے ہیں
جو بت شکن ہے وہی لمحہ بت تراش بھی تھا

وہ حرف ناز کہ ریشم کا تار کہیے جسے
وہی تو دل کے لیے اک حسیں خراش بھی تھا

ادائے حسن جسے کہیے بے رخی تنویرؔ
اسی کی طرز تغافل کا راز فاش بھی تھا

تنویر احمد علوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم