MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

سمجھتے کیا ہیں ان دو چار رنگوں کو ادھر والے

سمجھتے کیا ہیں ان دو چار رنگوں کو ادھر والے
ترنگ آئی تو منظر ہی بدل دیں گے نظر والے

اسی پر خوش ہیں کہ اک دوسرے کے ساتھ رہتے ہیں
ابھی تنہائی کا مطلب نہیں سمجھے ہیں گھر والے

ستم کے وار ہیں تو کیا قلم کے دھار بھی تو ہیں
گزارہ خوب کر لیتے ہیں عزت سے ہنر والے

کوئی صورت نکلتی ہی نہیں ہے بات ہونے کی
وہاں زعم خدا وندی یہاں جذبے بشر والے

مفاعیلن کا پیمانہ بہت ہی تنگ ہوتا ہے
جبھی تو شعر ہم کہتے نہیں ہیں دل جگر والے

گھروں میں تھے تو وسعت دشت کی ہم کو بلاتی تھی
مگر اب دشت میں آئے تو یاد آتے ہیں گھر والے

جو مستقبل سے پر امید ہو وہ شاعر مطلق
شجاعؔ خاور سے اپنی فکر کی اصلاح کروا لے

شجاع خاور

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم