Iss Tarah Baalhuda Nahi Hoota
غزل
اس طرح با خدا نہیں ہوتا
عشق میں تجربہ نہیں ہوتا
چلنا پڑتا ہے پا بجولاں ہی
دوسرا راستہ نہیں ہوتا
کون کہتا ہے یاں جنوں کو برا
خاک اڑانا برا نہیں ہوتا
گھسنی پڑتی ہے خاک پر یہ جبیں
ایسے تو معجزہ نہیں ہوتا
دار تک سر اگر نہ پہنچے تو
در حقیقت کا وا نہیں ہوتا
جبر ہوتا ہے وقت کا سارا
خودکشی فیصلہ نہیں ہوتا
بھوک جب پیٹ کاٹنے لگے تو
پھر خدا بھی خدا نہیں ہوتا
یار مشکل میں سارے چھوڑ گئے
ایسا تو دوستا نہیں ہوتا
دھار لیتے ہیں لوگ روپ کئی
کوئی بھی پارسا نہیں ہوتا
گر نہ آدم کوئی خطا کرتا
جو ہوا ہے، ہوا نہیں ہوتا
شعر ہوتا نہیں عطا حامیؔ
زخم جب تک ہرا نہیں ہوتا
حمزہ حامیؔ
Hamza Haami