MOJ E SUKHAN

سوچتے اور جاگتے سانسوں کا اک دریا ہوں میں

غزل

سوچتے اور جاگتے سانسوں کا اک دریا ہوں میں
اپنے گم گشتہ کناروں کے لیے بہتا ہوں میں

بیش قیمت ہوں مری قیمت لگا سکتا ہے کون
تیرے کوچے میں بکوں تو پھر بہت سستا ہوں میں

خواب جو دیکھے تھے میں نے وہ بھی اب دھندلا گئے
اب تو تم آ جاؤ صاحب اب بہت تنہا ہوں میں

جل گیا سارا بدن ان موسموں کی آگ میں
ایک موسم روح ہے جس میں کہ اب زندہ ہوں میں

میرے ہونٹوں کا تبسم دے گیا دھوکا تجھے
تو نے مجھ کو باغ جانا دیکھ لے صحرا ہوں میں

میں تو یارو آپ اپنی جان کا دشمن ہوا
زہر بن کے آپ اپنی روح میں اترا ہوں میں

دیکھنے میری پذیرائی کو اب آتا ہے کون
لمحہ بھر کو وقت کی دہلیز پر آیا ہوں میں

تو نے بے دیکھے گزر کر مجھ کو پتھر کر دیا
تو پلٹ کر دیکھ لے تو آج بھی ہیرا ہوں میں

لفظ گونگے ہیں انہیں گویائی دینے کے لیے
زندگی کے سچے لمحوں میں غزل کہتا ہوں میں

اطہر نفیس

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم