MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

رات دن محبوس اپنے ظاہری پیکر میں ہوں

رات دن محبوس اپنے ظاہری پیکر میں ہوں
شعلۂ مضطر ہوں میں لیکن ابھی پتھر میں ہوں

اپنی سوچوں سے نکلنا بھی مجھے دشوار ہے
دیکھ میں کس بے کسی کے گنبد بے در میں ہوں

دیکھتے ہیں سب مگر کوئی مجھے پڑھتا نہیں
گزرے وقتوں کی عبارت ہوں عجائب گھر میں ہوں

جرم کرتا ہے کوئی اور شرم آتی ہے مجھے
یہ سزا کیسی ہے میں کسی عرصۂ محشر میں ہوں

تجھ کو اتنا کچھ بنانے میں مرا بھی ہاتھ ہے
میری جانب دیکھ میں بھی تیرے پس منظر میں ہوں

میرا دکھ یہ ہے میں اپنے ساتھیوں جیسا نہیں
میں بہادر ہوں مگر ہارے ہوئے لشکر میں ہوں

کون میرا پوجنے والا ہے جو آگے بڑھے
میں اکیلا دیوتا جلتے ہوئے مندر میں ہوں

ریاض مجید

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم